حکومت نے 40 کلو گندم کی بوری کی قیمت طے کر دی

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں 40 کلو گندم کی بوری کی قیمت مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کے کسی بھی ممکنہ بحران کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نئی فصل کی آمد تک ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ 40 کلو گرام گندم کی اشاریہ جاتی خریداری قیمت 3,500 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ قومی نگران کمیٹی برائے گندم کے چھٹے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حصین نے کی، اجلاس میں آئندہ کٹائی کے سیزن سے قبل گندم کی خریداری، ذخائر کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزارت خوراک وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکام نے شرکت کی اور گندم کی موجودہ صورتحال، خریداری کی تیاریوں اور ترسیل کے نظام پر بریفنگ دی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں موجود ذخائر قومی ضروریات کے لیے کافی ہیں اور نئی فصل کی مارکیٹ میں آمد تک رسد میں کوئی خلل متوقع نہیں۔

صوبائی حکومتوں نے بھی اپنی حکمت عملی سے آگاہ کیا،خیبرپختونخوا نے ہائبرڈ خریداری ماڈل اپنانے کا اعلان کیا جس کے تحت 75 فیصد خریداری سرکاری جبکہ 25 فیصد نجی شعبہ کرے گا۔

دوسری جانب سندھ نے گندم کی خریداری مکمل طور پر سرکاری شعبے کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قیمتوں اور رسد پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: بالائی علاقوں میں زندگی مفلوج! برفباری سے رابطہ سڑکیں بند، خوراک اور ایندھن کی شدید قلت

وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ خریداری نظام ایک سال تک برقرار رہے گا جبکہ 2026 تا 2030 کے لیے جامع گندم پالیسی تیار کی جا رہی ہے، جس میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی، سپلائی چین کی نگرانی اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔

اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پر بھی غور کیا گیا، وفاقی وزیر نے صوبوں کو ہدایت کی کہ مارکیٹوں کی سخت نگرانی کی جائے اور آٹے کی قیمتوں میں کسی بھی بلاجواز اضافے کو ہر صورت روکا جائے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ وفاق اور صوبے باہمی تعاون سے گندم کی مستحکم فراہمی، کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور عوام کو مناسب نرخوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائیں گے۔

Scroll to Top