کوہاٹ: ڈاکٹر مہوش قتل کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملزمان کی شناخت کر لی ہے، اور ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈی پی او شہباز الہٰی کے مطابق ملزمان کی گرفتاری جلد متوقع ہے، جبکہ واقعہ کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کی گئی ہیں۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ڈی پی او نے مزید بتایا کہ مقتولہ کے اہل خانہ کو ہر ممکن انصاف فراہم کیا جائے گا اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر مہوش قتل کیس کے سلسلے میں ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹرز، پیرا میڈکس اور نرسنگ سٹاف نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج کوہاٹ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں الیکٹیو سروسز بند رہیں گی، جبکہ نجی کلینکس بھی عارضی طور پر بند رہیں گے۔
اجلاس میں ایمرجنسی اور او پی ڈی کے سامنے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اور شرکاء نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ انصاف کے مطالبے کو مضبوط کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پولیس اور متعلقہ حکام نے ڈاکٹر مہوش قتل کیس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر ممکن کوششیں شروع کر دی ہیں تاکہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، خاتون ڈاکٹر جاں بحق
یاد رہے کہ گزشتہ روز کوہاٹ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون ڈاکٹر مہوش جاں بحق ہو گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، ڈاکٹر مہوش ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے اپنے گھر جا رہی تھیں کہ ڈبل روڈ پر نامعلوم افراد نے انہیں نشانہ بنایا۔
پولیس جائے حادثہ پر پہنچ کر تفتیش کا آغاز کر چکی ہے، تاہم ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔ واقعے کے بعد ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشن سراپا احتجاج بن گئی ہے۔
ڈاکٹرز نے سیکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر خاتون ڈاکٹر بھی محفوظ نہیں رہ سکیں تو دیگر ہسپتال عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چارسدہ میں گھریلو تنازع پر فائرنگ، 4 جاں بحق،2 زخمی
واقعے کے بعد کے ڈی اے اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر مہوش کے قتل کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے ہسپتال بند کرنے کا اعلان کر دیا، اور ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔





