عمران خان کو رات گئے پمز ہسپتال لانے پر بیرسٹر گوہر کا ردعمل سامنے آ گیا

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پمز میں طبی معائنے کے بعد انہیں اطلاع دی گئی، تاہم اس حوالے سے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق انہیں صبح تقریباً 2 بجے ایک پیغام موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو انجیکشن لگانے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی کی آنکھ کا فالو اپ پروسیجر کیا گیا اور بعد ازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

انہوں نے اپنے ایکس ( ٹوئٹر) پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طبی عمل سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ دہرایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مکمل طبی معائنہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ نہ صرف پارٹی بلکہ بانی کی فیملی کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور آئندہ تمام طبی معائنے ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیے جائیں۔

دوسری جانب پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں فالو اپ کے لیے اسپتال لایا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹرل انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال لایا گیا، تسلی بخش چیک اپ کے بعد واپس اڈیالہ منتقل

اعلامیے میں کہا گیا کہ طریقہ کار کے دوران ان کی حالت مستحکم رہی اور ضروری طبی نگرانی فراہم کی گئی۔

حکام کے مطابق تمام اقدامات معیاری طبی پروٹوکول کے تحت مکمل کیے گئے، جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے شفاف طبی نگرانی کے مطالبے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

Scroll to Top