اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پمز میں طبی معائنے کے بعد انہیں اطلاع دی گئی، تاہم اس حوالے سے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق انہیں صبح تقریباً 2 بجے ایک پیغام موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو انجیکشن لگانے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی کی آنکھ کا فالو اپ پروسیجر کیا گیا اور بعد ازاں انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے اپنے ایکس ( ٹوئٹر) پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طبی عمل سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
آج صبح 2 بجے مجھے ایک میسیج کے ذریعے اتنا بتایا گیا کہ خان صاحب کو PIMS ہاسپٹل انجیکشن لگانے کیلیئے لائے گے تھے- مجھے پیشگی اطلاع نہیں تھی-
ہمارا مطالبہ آج بھی وہی ہے کہ خان صاحب کا شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل میں اپنے ڈاکٹرز اور فیملی ممبرز کی موجودگی میں مکمل چیک اپ اور علاج ہو۔— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) February 24, 2026
چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ دہرایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مکمل طبی معائنہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ نہ صرف پارٹی بلکہ بانی کی فیملی کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور آئندہ تمام طبی معائنے ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیے جائیں۔
دوسری جانب پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں فالو اپ کے لیے اسپتال لایا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹرل انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال لایا گیا، تسلی بخش چیک اپ کے بعد واپس اڈیالہ منتقل
اعلامیے میں کہا گیا کہ طریقہ کار کے دوران ان کی حالت مستحکم رہی اور ضروری طبی نگرانی فراہم کی گئی۔
حکام کے مطابق تمام اقدامات معیاری طبی پروٹوکول کے تحت مکمل کیے گئے، جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے شفاف طبی نگرانی کے مطالبے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔





