واٹس ایپ میں نئےمنفرد فیچر کا اضافہ

راہزنوں نے طریقہ واردات بدل دیا! موبائل نمبر کی بجائے وٹس ایپ استعمال، پولیس کیلئے ناقابلِ یقین چیلنج

شہر میں پیشہ ور راہزنوں نے وارداتوں کے طریقے بدل کر پولیس کے لیے نئے چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔ اب یہ عناصر موبائل فون کی بجائے وٹس ایپ نمبر استعمال کر کے اپنے نشانات چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق زیادہ تر وارداتوں میں نوجوان اور آئس نشے کے عادی لڑکے ملوث ہیں جو سنیچنگ کے بعد موبائل فونز افغانستان سمگل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پشاور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ گرفتار یا زخمی ہونے والے راہزنوں نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ کال کی بجائے وٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں تاکہ ٹریس نہ ہو سکے۔ واردات کے بعد موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کیے جاتے ہیں یا انہیں افغانستان سمگل کیا جاتا ہے، جس سے پولیس کے لیے سراغ لگانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ زیادہ تر راہزن آکس نشے کے لیے یہ وارداتیں کرتے ہیں اور حاصل شدہ رقم کو پشاور سمیت دیگر شہروں میں نشے، ڈانس پارٹیوں اور خواجہ سراؤں کے اجتماعات پر خرچ کرتے ہیں۔ بعض عناصر متعدد بار گرفتار ہو کر ضمانت پر رہائی کے بعد دوبارہ وارداتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، تاہم رواں سال پولیس کی سخت کارروائیوں کے نتیجے میں 35 سے زائد پولیس مقابلوں میں متعدد راہزن ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مقامی سطح پر موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی بدلنے والے عناصر کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ شہر میں راہزنی کی وارداتوں میں کمی لائی جا سکے۔

Scroll to Top