ایران کے ساتھ جھڑپیں: 6 امریکی فوجی ہلاک، سینٹکام نے تصدیق کر دی

واشنگٹن/تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی باقاعدہ جنگی صورتحال میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جھڑپوں میں اب تک مجموعی طور پر 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

سینٹکام کے مطابق ایران کے ابتدائی حملوں میں مارے جانے والے مزید دو فوجیوں کی لاشیں بھی نکال لی گئی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی تنصیبات اور افواج کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

امریکا نے تین لڑاکا طیاروں کے کویت میں گر کر تباہ ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج عمان میں موجود تمام ایرانی جہازوں کو تباہ کر دیا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکی دعوے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ پاسداران نے اعلان کیا کہ کسی بھی جہاز نے گزرنے کی کوشش کی تو اسے جلا کر راکھ کر دیا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکا سے تعلق رکھنے والے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

دوسری جانب ایرانی ہلال احمر کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 555 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 131 شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی طویل جنگ کی تیاری، دشمن کو پچھتانا ہوگا، علی لاریجانی

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں شہری آبادی کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے انسانی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، خصوصاً تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، تاہم دونوں جانب سے سخت بیانات اور جوابی اقدامات کے باعث صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔

Scroll to Top