پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز میں قانونی پیچیدگیاں، تاخیر کا امکان

پاکستان میں فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی اور فائیو جی سروس کے آغاز میں مزید تاخیر کا امکان پیدا ہوگیا ہے،

جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں درپیش مشکلات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پی ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ قانونی پیچیدگیاں، ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان انضمام کے معاہدوں کی تکمیل میں تاخیر، اور دو ٹیلی کام کمپنیز کے انضمام کے عمل میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جس کے باعث فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی میں مشکلات درپیش ہیں۔

پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق، عدالتوں میں زیر التوا کیسز بھی فائیو جی نیلامی پراسس کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں کو ہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کرلیا

علاوہ ازیں، فائیو جی انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کی لاگت اور فائیو جی ڈیوائسز کی دستیابی بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس سے فائیو جی سروس کی جلدی فراہمی میں مشکلات آ رہی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق، فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کی متوقع ڈیڈ لائن جون 2025 ہے، جبکہ فائیو جی اسپیکٹرم کی کمرشل لانچنگ کی ڈیڈ لائن 2026 کی پہلی سہ ماہی رکھی گئی ہے۔

پی ٹی اے کے کنسلٹنٹ نے ٹیلی کام مارکیٹ کی اسسمنٹ مکمل کر لی ہے اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے۔ نیلامی کا عمل اسپیکٹرم قیمت اور نیلامی ڈیزائن کی اسٹیج تک پہنچ چکا ہے۔

ایڈوائزری کمیٹی ایک ماہ کے اندر پالیسی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی، اور ان سفارشات کے بعد حکومت فائیو جی پالیسی ڈائریکٹیو جاری کرے گی۔

Scroll to Top