وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مہنگائی سے متاثر عوام کو ریلیف دینے کے لیے بڑے پیکج کا اعلان کر دیا۔
وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں فوری طور پر 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد پٹرول کی قیمت رات 12 بجے سے 458 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کمی کا اطلاق ایک ماہ کے لیے پورے ملک میں ہوگا۔
وزیراعظم نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی سبسڈی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی لیٹر 100 روپے کی رعایت دی جائے گی۔ اسی طرح گڈز ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کو بھی ایک ماہ تک 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو اور عوام پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چھوٹے ٹرکوں کو ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بنوں، مکان کی چھت گرنے سے2 بچے زندگی کی بازی ہار گئے
وزیراعظم نے زرعی شعبے کے لیے بھی اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے امداد دی جائے گی تاکہ وہ موجودہ معاشی دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔
ریلوے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوےکی اکانومی کلاس کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید برآں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے ارکان کی چھ ماہ کی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرانے کا اعلان بھی کیا، جسے انہوں نے قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ قرار دیا۔
خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی خطے میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ گزشتہ ہفتوں میں بڑھنے والی قیمتوں کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل نہ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے 129 ارب روپے قومی وسائل سے خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے دنیا کی بڑی معیشتوں کو بھی متاثر کیا ہے، تاہم حکومت پاکستان عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : بونیر میں زلزلے کے جھٹکے، متعدد افراد متاثر، طبی امداد جاری
وزیراعظم نے بتایا کہ ان اعلانات سے قبل صدر مملکت کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس اور وزیراعظم ہاؤس میں تفصیلی مشاورت کی گئی، جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
انہوں نے صوبائی قیادت، بالخصوص مریم نواز شریف، مراد علی شاہ، سہیل آفریدی اور میر سرفراز بھگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی مفاد میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشکل وقت قومی اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتا ہے، اور حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل جاتا۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ خطے میں جلد امن قائم ہو اور پاکستان سمیت پوری دنیا کو درپیش معاشی مشکلات میں کمی آئے۔





