خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں سیکنڈ شفٹ میں پڑھانے والے اساتذہ کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ذرائع کے مطابق جون 2024 میں آخری مرتبہ انہیں تنخواہیں ادا کی گئی تھیں جس کے بعد سے ادائیگیاں روک دی گئی ہیں۔صوبے کے 10 اضلاع میں 200 سے زائد اسکولوں میں سیکنڈ شفٹ کا آغاز کیا گیا تھا تاکہ تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے لیکن اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے سیکنڈ شفٹ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے اور ادائیگی کے حوالے سے متعلقہ حکام سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق سیکنڈ شفٹ اساتذہ کی تنخواہ 25 ہزار سے بڑھا کر کم از کم 37 ہزار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے 26 دیگر اضلاع میں بھی مناسب اسکولوں میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں تاہم پہلے سے کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔





