پشتو کے فنکاروں پر زندگی تنگ، حل حکومت کی ذمہ داری ہے، ڈاکٹراباسین یوسفزئی

پشتو کے فنکاروں پر زندگی تنگ، حل حکومت کی ذمہ داری ہے، ڈاکٹراباسین یوسفزئی

ڈاکٹراباسین یوسفزئی نے پختون ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاپشتو کے فنکاروں پر زندگی تنگ، حل حکومت کی ذمہ داری ہے، پہلے فن اور فنکار کی بڑی عزت ہوتی تھی

،نشتر ہال میں ہر وقت پروگروم چلتے تھے ،ہر ضلع میں ایک آرٹس کونسل ہوتا تھا ۔سال میں ایک مرتبہ جشن خیبر ہوتا تھا وہ فنکار جو ان سرگرمیوں میں ملوث ہوتے تھے وہ اب بالکل خاموش ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے میںلڑائیاں ہوئی سیلاب آگیا ،پھر زلزلہ اور آخر میں کرونا آگیا

جس کی وجہ سے فنکاروں کی وہ تسلسل ختم ہوگیا ہمیں ایسے سیاسی رہنما چاہیے جو فنکار کی قدر اور ان کی خوصلہ افزائی کریں ۔فنکار ایک قسم کا سفیر ہوتا ہے ۔فنکاروں کے مسائل کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے ،فنکاروں اور ادیبوں کے مسائل حل کرنے کیلئے فارم ہوتے ہیں لیکن سننے والا کوئی نہیں ہے ۔

حکومت تو اُلٹا ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر لوگوں پر لاٹی چارج کرتا ہے پھر فنکار تو بہت ہی زیادہ نازک ہوتا ہے ۔فنکاروں کیلئے روزگار کے موقع ہونے چاہیےامداد نہیں ۔فنکار کیلئے حکومت کی سرپرستی انتہائی ضروری ہے ۔

حکومت نے میراوس کیساتھ اس وقت امداد کیا جب بات دور تک چلی گئی ۔اس کے علاوہ فنکاروں کو سکیورٹی کا بھی مسئلہ ہے حکومت وقت کو چاہیے کہ فنکاروں کو سکورٹی فراہم کریں ۔

Scroll to Top