رانی عندلیب
خیبر پختونخوا حکومت نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بڑی انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے 8 ایکٹنگ چارج ایگزیکٹو انجینئرز کو مستقل بنیادوں پر ترقی دے دی ہے۔
اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق یہ ترقیاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حتمی منظوری کے بعد فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
محکمہ پبلک ہیلتھ کے مطابق یہ ترقیاں پراونشل سلیکشن بورڈ (PSB-2) کی سفارشات کی روشنی میں دی گئی ہیں۔ ان افسران کو گریڈ 17 سے ایگزیکٹو انجینئر (BS-18) کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے جس کا مقصد صوبے میں پانی و صفائی کے منصوبوں کی نگرانی اور محکمے کی انتظامی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ترقی پانے والے نمایاں افسران میں سید اعظم شاہ، شہزاد خان اور ضیاء الرحمن شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان افسران کا تعلق صوبے کے مختلف اضلاع سے ہے ۔ شانگلہ، باجوڑ، کرک، سوات اور شمالی وزیرستان میں تعینات افسران کو ان کی خدمات کے اعتراف میں مستقل عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔
فہرست میں چترال اپر اور ملاکنڈ میں فرائض سرانجام دینے والے افسران کے نام بھی شامل ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ترقی پانے والے تمام افسران ایک سال تک پروبیشن (آزمائشی مدت) پر رہیں گے تاکہ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس دوران ان کی نگرانی متعلقہ حکام کی جانب سے کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محمد زبیر خان کو ڈیپوٹیشن پر بطور ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان ترقیوں اور تقرریوں کا بنیادی مقصد سروس ڈیلیوری کے نظام کو مضبوط بنانا اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو شفاف طریقے سے مکمل کرنا ہے۔





