امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہ ہونا مذاکراتی عمل کی ناکامی نہیں ہے، پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک رہے گا۔
عرب چینل المیادین کے مطابق کسی معاہدے تک نہ پہنچ پانا اس بات کی علامت نہیں کہ مذاکراتی عمل مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفارتی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہنے کے امکانات موجود ہیں اور فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے کیلئے مزید مواقع بھی دستیاب ہیں۔
Despite failing to reach an agreement in #Islamabad to end the US-Israeli war on Iran and the region after 21 hours of negotiations, diplomatic efforts are far from over.
Al Mayadeen’s correspondent in Islamabad reported that #Pakistan will continue its diplomatic efforts to… pic.twitter.com/CEAPc8CckA
— Al Mayadeen English (@MayadeenEnglish) April 12, 2026
پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اس سلسلے میں دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے، سفارتی روابط بڑھانے اور اختلافات کم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار خطے میں استحکام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی میزبانی پر شکریہ! گیند اب امریکا کی کورٹ میں ہے، ایرانی اسپیکر
واضح رہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی اسپیکر نے کہا کہ تہران نے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی، تاہم مخالف فریق کا رویہ غیر اطمینان بخش رہا۔
ان کے مطابق ایران نے مستقبل پر مبنی جامع تجاویز پیش کیں مگر واشنگٹن اعتماد سازی کے عمل میں ناکام رہا، جس کے باعث مذاکرات میں صرف محدود پیش رفت ہو سکی۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا گہرا فقدان اب بھی کسی بڑی پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔
ایرانی اسپیکر نے پاکستان کی میزبانی اور سہولت کاری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے “دوست اور برادر ملک” قرار دیا، جبکہ 9 کروڑ ایرانی عوام اور سپریم لیڈر کی حمایت کو بھی سراہا۔





