خیبر پختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں 10 کھرب روپے کے خطیر ’’روشن پیکیج‘‘کی منظوری دے دی ہے، جسے صوبے کی ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس جامع ترقیاتی پیکیج کو خصوصاً قبائلی اضلاع اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے “گیم چینجر” تصور کیا جا رہا ہے۔
پیکیج کے تحت قبائلی اور بندوبستی اضلاع میں جدید سہولیات سے آراستہ متعدد منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جن میں ہیلتھ سٹی کا قیام، حساس جنگلات پروگرام، ٹرائبل میڈیکل کالج اور ٹرائبل یونیورسٹی کا قیام شامل ہے۔ حکومت نے قبائلی علاقوں میں دوسری یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے تحت ورچوئل کلاس رومز اور “بیگ فری اسکولز” کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے، جہاں طلبہ کو کتابوں کا بوجھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور تمام تعلیمی سامان اداروں میں ہی فراہم کیا جائے گا۔ یہ اسکولز پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم کیے جائیں گے۔
مزید برآں، حکومت نے خصوصی بچوں کے لیے نئے اسکولز کے قیام کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ معذور افراد کے لیے خود روزگار اسکیم متعارف کروائی جا رہی ہے، جس کے تحت انہیں کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق ان تمام منصوبوں کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے اور جلد ہی ان پر عملی کام شروع ہونے کی توقع ہے۔





