پشاور ہائیکورٹ میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون کی پاکستانی شہریت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

شہریت کے حصول کےلیے 19 سالہ جہدوجہد کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا

کامران علی شاہ
پشاور ہائیکورٹ میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی خاتون کی پاکستانی شہریت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

درخواست میں 19 سال سے شہریت کی درخواست پر فیصلہ نہ ہونے کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار خاتون نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خاندان نے 1947 میں ہجرت کی تھی اور اب پاکستانی شہری سے شادی کی بنیاد پر وہ قانوناً شہریت کا حق رکھتی ہیںاس مقصد کے لیے وہ وزارت داخلہ میں درخواست دے چکی ہیں اور اپنی سابقہ شہریت چھوڑنے پر بھی آمادہ ہیں۔

وکیل صفائی مہوش محب کاکاخیل نے دلائل دیے کہ شہریت سے انکار درخواست گزار کی خاندانی زندگی اور مساوی حقوق کے منافی ہے۔

جسٹس وقار احمد نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ، وفاقی حکومت، نادرا اور پاسپورٹ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے اپنے عبوری حکم میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خاتون کو ان کا پاسپورٹ فوری واپس کیا جائے۔

عدالت عالیہ نے کیس کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

Scroll to Top