پاکستان تحریک انصاف کےجنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے حکومت کے لیے سہولت کاری کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت اور سیاسی کمیٹی کے مشورے سے کیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن پاکستان کی ضرورت ہے اور صلح جوئی کا کردار ادا کرنا ہمارا فرض ہے تاہم حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک نے بھی قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں کیا جتنا یہاں کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔
جلسے کی منسوخی کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات پر گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ وہ علیمہ خان کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتے، کیونکہ جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ سیاسی کمیٹی میں مشاورت کے بعد ہوا تھا اور بانی پی ٹی آئی نے خود اس کی تائید کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وکیل سلمان صفدر نے جیل سے باہر آکر انہیں فون کیا اور عمران خان کا اہم پیغام پہنچایا کہ 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کر دیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس نے بھی اس فیصلے کی حمایت کی تھی اور بانی پی ٹی آئی نے ان دونوں رہنماؤں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ علیمہ خان کو اپنی رائے کا حق حاصل ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ جلسہ منسوخی کا فیصلہ تحریک انصاف کے مفاد میں کیا گیا تھا۔





