ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا فعال اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، اور پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی فضا پیدا ہوئی ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھرپور قیادت فراہم کی، جبکہ نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم بھی امن مذاکرات کے لیے مسلسل متحرک رہی۔ اس دوران اعلیٰ سطحی ٹیلیفونک روابط کے ذریعے عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا گیا۔
ترجمان کے مطابق وزیرِاعظم اس وقت تین ملکی دورے پر ہیں اور انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کی جانب سے ٹیلیفون کالز موصول ہو رہی ہیں، جن میں پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال اور امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اور اعلیٰ عسکری و سول قیادت نے فریقین کے درمیان رابطے کے تمام ممکنہ چینلز کھلے رکھے، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی حالیہ دنوں ایران کے دورے پر پہنچے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نہ صرف خطے میں امن کا خواہاں ہے بلکہ عالمی سطح پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھی اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
بریفنگ کے دوران انہوں نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر فلسطینی اور لبنانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے بھارت کی نئی حلقہ بندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جہاں کسی بھی یکطرفہ اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائے، جبکہ عالمی برادری کو بھی اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔





