واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کے نمائندوں اور مختلف مالیاتی اداروں کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں پاکستان کی معیشت، اصلاحات اور بیرونی مالی پوزیشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے اور اس کی بورڈ سے منظوری جلد متوقع ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تمام یورو بانڈ ادائیگیاں کامیابی سے مکمل کر لی ہیں جبکہ تمام قرض دہندگان کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائی جا رہی ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی مالی معاونت سے ملک کی بیرونی معاشی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی، انہوں نے بتایا کہ پاکستان عالمی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ واپسی اور یورو بانڈز اور روپے سے منسلک بانڈز کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے، اس مقصد کے لیے درمیانی مدت کی جامع حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے توانائی بحران سے نمٹنے اور سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ قیمتوں کی مکمل منتقلی کا نظام نافذ کیا جا چکا ہے، کمزور طبقات کے لیے ٹارگٹڈ ڈیجیٹل سبسڈیز کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
دورہ واشنگٹن کے دوران وزیر خزانہ کی اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات بھی ہوئی جس میں پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا، چین کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا گیا اور آئی ایم ایف پروگرام میں تعاون کو سراہا گیا۔
مزید برآں، پاکستان کی جانب سے کرنسی سوآپ معاہدے میں توسیع کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا جبکہ شنگھائی کو آپریشن آگنائزیشن کے ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے پانڈا بانڈ کے اجرا پر بھی پیش رفت کی ہے تاکہ عالمی مالیاتی ذرائع میں تنوع لایا جا سکے، انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی سمت درست ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔





