بھارت کی خارجہ اور توانائی پالیسی ایک بار پھر زیر بحث ہے جب امریکی فیصلے اور روسی تیل سے متعلق رعایتوں میں تبدیلی کے بعد نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری پر دی گئی بعض رعایتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد بھارتی ریفائنریوں کی تیل کی خریداری اور سپلائی حکمت عملی متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے ان رعایتوں کے باعث بھارت کو عالمی سپلائی میں خلل کے باوجود روسی تیل کے اضافی ذخائر حاصل کرنے میں سہولت میسر تھی تاہم نئی صورتحال کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے تقریباً 3 کروڑ بیرل روسی تیل کے آرڈرز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق 11 مارچ سے قبل کیے گئے رعایتی تیل کے معاہدوں کی مدت اب ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد توانائی تجارت سے متعلق نئی شرائط لاگو ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی سفارتی تنہائی آشکار، امریکا اور ایران پاکستان آ رہے ہیں، مودی دیکھتے رہ گئے، بلومبرگ
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں توانائی تجارت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مختلف پابندیوں، ٹیرف فیصلوں اور توانائی معاہدوں میں تبدیلیاں بھارت کی توانائی پالیسی کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی رعایت کے خاتمے کے بعد بھارت کی ریفائنری صنعت کو متبادل ذرائع اور نئی سپلائی حکمت عملی پر غور کرنا ہوگا۔





