آئرن کی کمی الزائمر اور ڈیمینشیا کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جسم میں آئرن کی کمی الزائمر اور دیگر اقسام کی ڈیمینشیا کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

برطانوی میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے محققین نے 2 ہزار 282 صحت مند افراد پر 9 سال تک تحقیق کی، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ آئرن کی کمی دماغ کو بیماریوں کے خلاف کمزور بنا دیتی ہے اور الزائمر کی علامات کو تیز کر سکتی ہے، خاص طور پر مردوں میں یہ اثر زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد میں ہیموگلوبن کی سطح کم تھی، ان میں الزائمر کا خطرہ 66 فیصد زیادہ پایا گیا، اسی دوران خون کے نمونوں میں الزائمر سے متعلق پروٹینز کی سطح بھی بلند دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ آئرن کی کمی خواتین میں زیادہ عام ہے، تاہم مردوں میں یہ مسئلہ بعد میں ظاہر ہو کر زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب افراد آئرن کی کمی کا شکار ہیں، جن میں سے 1.2 ارب افراد آئرن ڈیفیشنسی انیمیا میں مبتلا ہیں، برطانیہ میں ہر سال 57 ہزار سے زائد افراد انیمیا کے باعث اسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وقفے وقفے سے کھانا وزن کم کرنے اور ہارمونز بہتر بنانے میں مددگار، نئی تحقیق

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ بڑی حد تک قابلِ علاج ہے اور آئرن سپلیمنٹس یا آئرن سے بھرپور غذا جیسے سبز پتوں والی سبزیاں، سرخ گوشت اور مخصوص سیریلز کے استعمال سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ الزائمر دنیا بھر میں ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم ہے جو مریضوں کے تقریباً 75 فیصد کیسز پر مشتمل ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بہتر طرزِ زندگی اور بروقت اسکریننگ کے ذریعے تقریباً 45 فیصد کیسز کو روکا یا مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top