مردان میں ہونے والے سیاسی جلسے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بڑی تعداد میں عوام شرکت کرے گی، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس رہی۔ جلسہ گاہ میں لگائی گئی تقریباً 2 ہزار کرسیاں بھی مکمل طور پر نہ بھر سکیں، جس کے باعث مجموعی طور پر ماحول مایوس کن رہا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ارباب خضر حیات نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلسے کے منتظمین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ تقریباً 10 لاکھ افراد شرکت کریں گے، تاہم عملی طور پر صرف 2 ہزار کرسیاں لگائی گئیں، اور وہ بھی خالی رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز جلسہ منعقد کرنے کا مقصد سرکاری ملازمین کو بھی شامل کرنا تھا، جو ایک قابل افسوس پہلو ہے۔ ارباب خضر حیات کے مطابق اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان بھی جلسے میں شرکت اور ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جلسے میں کم شرکت نے پارٹی کی تنظیمی طاقت اور عوامی حمایت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔





