امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث پیٹرول کی قیمتیں بلند سطح پر رہ سکتی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ اور معیشت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قیمتوں میں فوری اور بڑی کمی کا امکان نظر نہیں آتا۔
کرس رائٹ کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں آئندہ سال تک 3 ڈالر فی گیلن سے زائد رہ سکتی ہیں، جبکہ قیمتوں میں کمی کا انحصار خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور حالات کے معمول پر آنے پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں پہلے ہی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں اور موجودہ صورتحال میں ان میں نمایاں کمی کی توقع نہیں کی جا رہی۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ بھی موجود ہے۔





