امریکہ کا ایران پر بحری و مالی دباؤ مزید سخت کرنے کا اعلان

امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ کی پالیسی کو مزید سخت کر رہا ہے اور بحری و مالی سطح پر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

بیان کے مطابق امریکی بحریہ ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھے گی جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات اور ذخائر کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ایران کی آمدنی کے بنیادی ذرائع کو متاثر کرنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنا اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے تہران کی معیشت پر اثر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت ایران کے مالی نظام کو کمزور کرنے، فنڈز کی نقل و حرکت روکنے اور آمدنی کے ذرائع محدود کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا۔

بیان میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جو افراد یا ادارے ایران کے ساتھ خفیہ تجارت یا مالی معاونت میں ملوث پائے گئے، ان پر امریکی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  : اپنی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، شہباز شریف

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی قیادت سے منسلک مبینہ غیر قانونی رقوم کو منجمد کرنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ان تک رسائی محدود کی جا سکے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم میاں شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر ایران سے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔

15روزہ جنگ بندی نے آج رات ہی ختم ہوناتھا جس پرپوری دینا تشویش میں مبتلا تھی لیکن اس موقع پر پاکستان نے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے اور امن معاہدہ کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

Scroll to Top