امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ کی پالیسی کو مزید سخت کر رہا ہے اور بحری و مالی سطح پر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
بیان کے مطابق امریکی بحریہ ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھے گی جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات اور ذخائر کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ایران کی آمدنی کے بنیادی ذرائع کو متاثر کرنا ہے۔
As @POTUS has made clear, the United States Navy will continue the blockade of Iranian ports. In a matter of days, Kharg Island storage will be full and the fragile Iranian oil wells will be shut in. Constraining Iran’s maritime trade directly targets the regime’s primary…
— Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) April 21, 2026
امریکی حکام کے مطابق ایران کی سمندری تجارت کو محدود کرنا اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے تہران کی معیشت پر اثر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے تحت ایران کے مالی نظام کو کمزور کرنے، فنڈز کی نقل و حرکت روکنے اور آمدنی کے ذرائع محدود کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا۔
بیان میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جو افراد یا ادارے ایران کے ساتھ خفیہ تجارت یا مالی معاونت میں ملوث پائے گئے، ان پر امریکی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اپنی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، شہباز شریف
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی قیادت سے منسلک مبینہ غیر قانونی رقوم کو منجمد کرنے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ان تک رسائی محدود کی جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم میاں شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر ایران سے جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے۔
15روزہ جنگ بندی نے آج رات ہی ختم ہوناتھا جس پرپوری دینا تشویش میں مبتلا تھی لیکن اس موقع پر پاکستان نے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے اور امن معاہدہ کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔





