پشاور ہائی کورٹ نے افغانستان سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے افغان یونیورسٹیوں کو ڈی لسٹ کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے 22 متاثرہ طلبہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن یعنی این آر ای امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ عدالت نے متعلقہ طلبہ کو ہاؤس جاب کے لیے پی آر ایم پی سرٹیفکیٹس جاری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی نے 8 ستمبر 2025 کو افغانستان کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں کو ڈی لسٹ کیا تھا اور اس ایگزیکٹو فیصلے کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے اپنی ڈگریاں تعلیمی اداروں کے ڈی لسٹ ہونے سے پہلے ہی مکمل کر لی تھیں اس لیے وہ تمام مراعات کے حقدار ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پی ایم ڈی سی کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ قانون کے مطابق بیرون ملک سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ کا سال میں دو بار امتحان لینے کی پابند ہے۔





