امریکی فوج نے ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی کے تحت 29 بحری جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے یا بندرگاہوں پر واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ چند کمرشل جہاز ناکہ بندی سے بچ نکلے اور بڑی مقدار میں تیل عالمی مارکیٹ تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے، تاہم امریکی فوج نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
U.S. forces have directed 29 vessels to turn around or return to port as part of the U.S. blockade against Iran.
Over past 24 hours, media reports have alleged that several commercial ships evaded the blockade, citing M/V Hero II, M/V Hedy, and M/V Dorena as examples. These… pic.twitter.com/SKelkSOr77
— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 22, 2026
بیان میں وضاحت کی گئی کہ جہاز ہیرو ٹو اور ہیڈی ناکہ بندی عبور نہیں کر سکے بلکہ انہیں رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی فورسز نے روک کر ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پر لنگر انداز کر دیا تھا۔
اسی طرح ڈورینا نامی جہاز کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ پہلے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کر چکا تھا، جس کے بعد اب اسے بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کے ایک جنگی بحری جہاز کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آج کی غلطیوں کا ازالہ کرکے اسلام آباد کو ٹف ٹائم دیں گے، صاحبزادہ فرحان
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر جاری ہیں اور وہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنا رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج کی رسائی عالمی سطح پر موجود ہے اور وہ خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت ناکہ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔





