واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ سیز فائر یا جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی۔
ترجمان نے 3 سے 5 روز میں جنگ بندی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو کسی معاہدے کے لیے کوئی وقت نہیں دیا، اور تمام فیصلے بطور کمانڈر ان چیف وہ خود کریں گے۔
🚨🚨ٹرمپ نے جنگ بندی کی مدت بڑھا دی ہے تاکہ ایران کو اپنے حالات درست کرنے کا موقع مل سکے۔ اس فیصلے کا مقصد دوبارہ جنگ چھڑنے کے خطرے کو ٹالنا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ pic.twitter.com/rpbOmP5JVM— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) April 22, 2026
کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کو ایک متفقہ تجویز پیش کرنے کے لیے چند دن کا وقت دے رہے ہیں، اور اس دوران عارضی جنگ بندی کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اب بھی ایران کے جواب کا انتظار ہے اور صدر ٹرمپ جنگ بندی کے حوالے سے ایک واضح اور متفقہ ردعمل چاہتے ہیں۔
پاک-نائیجیریا ایئر فورسز کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں اضافہ، دفاعی تعاون پر اتفاق
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال اور ناکہ بندی سے مطمئن ہیں، اور ان کے مطابق ایران پر عائد معاشی دباؤ کے باعث تہران دوبارہ مذاکرات کی طرف آ رہا ہے۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا کو دیے جانے والے نجی پیغامات اور عوامی بیانات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران افزودہ یورینیئم سے متعلق اپنی ذمہ داریاں مکمل کرے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی پیش رفت کا انحصار اس کے آئندہ جواب اور پیش کردہ معاہدے پر ہوگا، جبکہ حتمی وقت کا تعین امریکی صدر ہی کریں گے۔





