خیبرپختونخوا: امتحانات میں شفافیت کیلئے سخت نظام نافذ

پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (SSC) اور ہائیر سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (HSC) کے امتحانات کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق امتحانات کے دوران ریذیڈنٹ انسپکٹرز کی ذمہ داریاں واضح کر دی گئی ہیں تاکہ امتحانی عمل میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ریذیڈنٹ انسپکٹر کا تقرر متعلقہ تعلیمی ادارے کے سربراہ یا ان کے نامزد کردہ افسر کو کیا جائے گا، جو پورے امتحانی عمل کی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔

یہ فیصلہ 22 اپریل کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی روشنی میں کیا گیا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم نے کی۔

جاری ہدایات کے مطابق ریذیڈنٹ انسپکٹر کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ ہر امتحانی پرچے کے دوران مرکز میں موجود رہے اور کسی بھی غیر متعلقہ کام سے اجتناب کرے تاکہ مکمل توجہ امتحانی عمل پر مرکوز رہے۔

امیدواروں کی جامع تلاشی اور اسکریننگ کا مؤثر نظام بھی انسپکٹر کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے تاکہ نقل اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ امتحانی عملے کے قیام و طعام، طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات جیسے فرنیچر، بجلی، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور مناسب امتحانی ماحول کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ بند ہالز میں واش رومز کی دستیابی کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ایس ایل 11: محمد عامر اور فہیم اشرف پر جرمانہ عائد

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی امتحانی مرکز میں کوئی مسئلہ پیش آئے جو انسپکٹر کے اختیار سے باہر ہو تو فوری طور پر متعلقہ تعلیمی بورڈ کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔

اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر امتحانات کے دوران سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

ریذیڈنٹ انسپکٹر کو ایک ہزار روپے فی پیپر (دونوں شفٹوں سمیت) معاوضہ دیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اگر انسپکٹر کسی وجہ سے غیر حاضر ہو تو وہ متبادل افسر کو تحریری طور پر نامزد کرنے کا پابند ہوگا۔

Scroll to Top