صرف 26 سال کی عمر میں کراچی کے نوجوان سوالح آصف نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے خوابوں میں بھی مشکل لگتا تھا۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے سوالح آصف فوربز ارب پتیوں کی فہرست 2026 میں شامل ہو کر پاکستان کے کم عمر ترین ارب پتی بن گئے ہیں۔
سوالح آصف نے اپنے تین ایم آئی ٹی دوستوں کے ساتھ اینی سفیئر نامی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کا مشہور پراڈکٹ کرسر ایک انقلابی مصنوعی ذہانت سے چلنے والا کوڈ ایڈیٹر ہے، یہ ٹول ڈویلپرز کے لیے کوڈ لکھنے، تدوین کرنے اور بہتر بنانے کا طریقہ ہی بدل رہا ہے۔
آج کرسر کی مارکیٹ مالیت 29.3 بلین ڈالر (تقریباً 8 ہزار ارب روپے سے زائد) تک پہنچ چکی ہے، کمپنی نے حال ہی میں 2.3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا مرحلہ مکمل کیا تھا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ این ویڈیا، ایڈوب، اوبر سمیت دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور لاکھوں ڈویلپرز اب کرسر استعمال کر رہے ہیں، کمپنی کی سالانہ آمدن ایک بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
سوالح آصف کراچی سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے نکسور کالج سے تعلیم حاصل کی اور پھر میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں داخلہ لیا۔ طالب علمی کے دوران انہوں نے بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
فوربز کے مطابق سوالح کی ذاتی دولت کا تخمینہ 1.3 بلین ڈالر ہے اور وہ کمپنی کے چیف پروڈکٹ آفیسر بھی ہیں۔
یہ کامیابی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کے لیے ایک بڑی ترغیب ہے، سوالح آصف کا سفر کراچی کی گلیوں سے سلیکون ویلی کے عروج تک پاکستان کی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔





