خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں سکول سے باہر بچوں کی تعلیمی اداروں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور منظم مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ترجیحات کے مطابق ہر بچے کو سکول میں داخلے اور بنیادی تعلیم کی تکمیل کا موقع فراہم کرنا اولین ہدف قرار دیا گیا ہے۔
اس مہم کے تحت مختلف متعلقہ محکمے مشترکہ طور پر منصوبہ بندی کریں گے، درست اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں گے اور مستحق خاندانوں کی معاونت کے ذریعے بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
صوبے کے ہر بچے کو سکول میں داخلہ اور بنیادی تعلیم کی تکمیل کا موقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے.
حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے بھر میں سکول سے باہر بچوں کی سکولوں تک رسائی یقینی بنانے کیلئے ایک جامع مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے تحت مختلف محکمے مل کر منصوبہ بندی، درست… pic.twitter.com/S7IZDCroXK— Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa (@CSKPOfficial) April 24, 2026
ابتدائی مرحلے میں صوبے بھر میں سروے کیا جائے گا جس کے ذریعے ویلج کونسل کی سطح تک ایسے بچوں کی نشاندہی کی جائے گی جو سکول نہیں جا رہے۔ سروے میں 5 سے 16 سال عمر کے سکول سے باہر بچوں کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا، جبکہ 5 سال تک کے بچوں کی آئندہ تعلیمی ضروریات کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کا ریڈ زون سیل، اسکولوں اور دفاتر کی بندش میں مزید ایک روز کی توسیع
اسی طرح سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا ڈیٹا سرکاری، نجی، وفاقی تعلیمی اداروں، مدارس، نان فارمل ایجوکیشن سینٹرز اور خصوصی تعلیمی پروگراموں سے حاصل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس جامع ڈیٹا کی بنیاد پر ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق تعلیمی منصوبہ بندی، بجٹ کی تقسیم اور وسائل کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔





