اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مبینہ جعلی صحافی فخر الرحمان کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے اس کے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزامات کے تحت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے عرصہ دراز سے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلا رہا تھا۔
مبینہ طور پر اس کی پوسٹس میں مختلف متنازع دعوے شامل تھے، جن میں بلوچستان سے متعلق حساس بیانیہ، بھارت اور افغانستان سے متعلق مبینہ حوالہ جات، اور ریاستی قیادت کے بارے میں سخت تبصرے شامل ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ وزیراعظم اور پاکستان کے بین الاقوامی کردار کے حوالے سے بھی تنقیدی اور متنازع مؤقف اپناتا رہا ہے۔
این سی سی آئی اےحکام کے مطابق ان پوسٹس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے فخر الرحمان کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی تفصیلی تجزیہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے
دوسری جانب یہ بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر “Islamabad Post” کے نام سے ایک اکاؤنٹ سرگرم ہے جو مبینہ طور پر پاکستان مخالف بیانیہ، اور بھارت و افغانستان سے متعلق مواد پھیلاتا رہا ہے۔
بعض ذرائع کے مطابق اس اکاؤنٹ کے بھارتی خفیہ ادارے “RAW” اور افغان عناصر سے روابط کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گرفتار شخص کا اس اکاؤنٹ سے گہرا تعلق تھا اور وہ اس کا مبینہ ایڈمن بھی رہا ہے۔
حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق اگلے اقدامات کیے جائیں گے۔





