اسلام آباد: یورپی ممالک کے سفر کے حوالے سے ایک نیا انٹری اور ایگزٹ سسٹم (EES) نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پاسپورٹ پر روایتی اسٹیمپنگ کے نظام کو مرحلہ وار ختم کر کے مکمل ڈیجیٹل ریکارڈنگ سسٹم اپنایا جائے گا۔
بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق یہ جدید نظام 10 اپریل 2026 سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد یورپ میں داخل ہونے اور باہر جانے والے غیر یورپی شہریوں کی مؤثر نگرانی اور سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیا انٹری/ایگزٹ سسٹم (EES) ان تمام غیر یورپی شہریوں پر لاگو ہوگا جو مختصر مدت کے لیے شینگن ایریا کا سفر کرتے ہیں۔
اس نظام کے تحت مسافروں کا بائیومیٹرک ڈیٹا، بشمول فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصاویر، بارڈر کنٹرول پوائنٹس پر محفوظ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس جدید نظام سے نہ صرف سفر کے عمل کو تیز اور آسان بنایا جائے گا بلکہ سرحدی سیکیورٹی کو بھی مؤثر بنایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد: ضروری اشیاء کی ترسیل جاری، خصوصی اجازت نامہ جاری
اس کے ذریعے جعلی شناخت اور دستاویزات کے استعمال کی روک تھام میں مدد ملے گی جبکہ ایسے افراد کی نشاندہی بھی ممکن ہوگی جو مقررہ مدت سے زائد قیام کرتے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ نیا نظام یورپی بارڈر مینجمنٹ کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مجموعی طور پر نگرانی کا عمل زیادہ شفاف اور مؤثر ہو جائے گا۔
بیورو آف ایمیگریشن نے پاکستانی مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یورپ کے سفر سے قبل نئے قواعد و ضوابط اور شرائط سے مکمل آگاہی حاصل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی یا تاخیر سے بچا جا سکے۔





