ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو کئے گئے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد ورفت روک کر علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا، جس سے خطے سمیت دنیا بھر کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جبکہ امریکا نے اس کے جواب میں13 اپریل کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کی اور اس میں ایرانی بندرگاہوں تک پھیلا دیا لیکن اس کے اثرات برعکس نظر آرہے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران تیل، گیس، پیٹروکیمیکل سمیت دیگر مصنوعات، پلاسٹکس اور زرعی مصنوعات سمندری راستے برآمد کرتا ہے، جس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی آبنائے ہرمز سمیت بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے ایران کی تجارت پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو حملوں کے آغاز کے فوری بعد ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کو مؤثر انداز میں بند کر دیا، جو خلیجی ممالک کا واحد سمندری راستہ ہے اور اسی آبنائے ہرمز سے پرامن حالات میں دنیا کے 20 فیصد تیل اور لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی سپلائی ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتوں کو پر لگ گئے اور ایران کا قبضہ بھی برقرار ہے تاہم ایران نے خود سمندری راستے سے تیل سمیت اپنی برامدآت جاری رکھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز سے ایران کی تیل کی برآمدات اس کے مجموعی تیل کی برآمدات کا 80 فیصد ہے، تیل کی تجارت کا حساب رکھنے والے ادارے کپلر کے مطابق ایران نے مارچ میں روزانہ 1.84 ملین بیرل خام تیل برآمد کیا اور اپریل میں 1.71 ملین بیرل روزانہ برآمد کیا جبکہ 2025 میں 1.68 ملین بیرل روزانہ برآمدات ہوتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 10 فیصد اضافہ
ایران نے 15 مارچ سے 14 اپریل تک 55.22 ملین بیرل تیل برآمد کیا، ایرانی تیل ایرانی لائٹ، ایرانی ہیوی اور فروزن بلینڈ تینوں قسموں کی قیمت مذکورہ ایک مہینے کے دوران 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے کبھی نہیں آئی اور اکثر دنوں میں ایرانی تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز ہوتی رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک محتاط انداز میں فی بیرل 90 ڈالر قیمت بھی رکھی جائے تو ایران نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران تیل کی برآمدات سے 4.97 ارب ڈالر کمائے ہیں۔
ایران فروری میں جنگ شروع ہونے سے قبل خام تیل کی برآمدات سے تقریباً 115 ملین ڈالر روزانہ یا ایک ماہ میں 3.45 ارب ڈالر کماتا تھا، اس طرح ایران نے جنگ سے پہلے کے مقابلہ میں جنگ کے دوران تیل کی زیادہ برآمدات کیں اور 40 فیصد زیادہ کمایا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے پیچھے بنیادی وجہ اسی تجارت کو روکنا اور ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔





