ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران اپنے حالیہ مشاہدات اور موقف سے پاکستان کو باقاعدہ آگاہ کرے گا اور امریکی حکام سے اسلام آباد میں میٹنگ طے نہیں ہے۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور تہران اسلام آباد کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مؤثر سفارتی راستے تلاش کیے جا سکیں۔
ادھرترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان کسی ملاقات کے منصوبےکی تردید کردی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس دورے میں پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقات ہوگی جس میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی سے متعلق امور پر بات ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 10 فیصد اضافہ
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی مسلط جارحانہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی سے متعلق امور پر بھی بات ہوگی۔
ترجمان نے بتایاکہ اس دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان کوئی میٹنگ طے نہیں ہے، پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں ایران اپنے مشاہدات پاکستان کو فراہم کرے گا۔
دوسری جانب پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں اور مختلف عالمی فریقین کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایسے میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں، تاہم صورتحال اب بھی نازک ہے اور کسی بھی وقت مزید تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔





