پاکستان کی مقامی اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے جس کے باعث قیمتیں اپنی سابقہ سطح سے کئی گنا اوپر چلی گئی ہیں۔
آج ہفتہ کو کراچی، کوئٹہ اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں ریال کی طلب میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ اور پاکستان کی مقامی اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں ایک بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اس وقت ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4,730 ایرانی ریال کے برابر ہے جبکہ پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ایک روپیہ صرف 1,000 ایرانی ریال کے بدلے فروخت ہو رہا ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی مارکیٹ کے حساب سے ایک ہزار پاکستانی روپے کی قدر 47 لاکھ 30 ہزار ایرانی ریال بنتی ہے، لیکن مقامی مارکیٹ میں ایک ہزار روپے کے بدلے صرف 10 لاکھ ریال مل رہے ہیں۔
اگر ایک کروڑ ایرانی ریال کے بنڈل کی بات کی جائے تو عالمی ریٹ کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 2,130 پاکستانی روپے بنتی ہے مگر پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں یہی بنڈل 8,000 سے 10,000 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس بڑے فرق کی سب سے بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ریال کی ذخیرہ اندوزی ہے، جو مستقبل میں ایران پر پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں بڑے منافع کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
علاوہ ازیں، بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں پیٹرولیم اور اشیائے خوردونوش کی غیر رسمی تجارت کے لیے نقد ریال کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے بھی مقامی قیمتوں کو بین الاقوامی مارکیٹ سے کہیں زیادہ اوپر پہنچا دیا ہے۔
ماہرینِ معیشت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی ریال کی مقامی قیمتوں میں یہ مصنوعی تیزی کسی بھی وقت سیاسی حالات کی تبدیلی کے باعث ختم ہو سکتی ہے، لہٰذا سرمایہ کاری کرتے وقت مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھا جائے۔





