پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے شہر کی بحالی اور ترقی کے لیے پشاور ریوائیول پلان کے تحت مجموعی طور پر 173 ارب 78 کروڑ روپے مالیت کے بڑے منصوبہ جاتی پیکج کی منظوری دے دی ہے، جسے شہر کی انفراسٹرکچر بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق اس جامع منصوبے میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی، انڈر پاسز، لنک روڈز، اور پیرز کوڑی پل سے جمرود تک بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنازہ گاڑیوں کی خریداری، بڈھنی نالہ کی تعمیر، فروٹ و سبزی منڈی اور چار مذبحہ خانوں کے قیام کے منصوبے بھی اس پیکج کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، دونوں عظیم شخصیات ہیں، صدر ٹرمپ
حکومت کی جانب سے جاری مالی سال کے دوران ان منصوبوں کے لیے 33 ارب 73 کروڑ روپے کے فنڈز طلب کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے ابتدائی طور پر پشاور کے لیے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں مزید منصوبے شامل کیے جانے کے باعث اس پیکج کا حجم بڑھ کر 173 ارب 70 کروڑ 78 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔
فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ محکمہ بلدیات کے لیے 95 ارب 21 کروڑ روپے، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (WSSP) کے لیے 43 ارب 26 کروڑ روپے جبکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹی ایم ایز کے لیے 3 ارب 97 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل میں رنگ روڈ کے لیے 9 ارب 84 کروڑ روپے، جمرود روڈ، یونیورسٹی روڈ اور رنگ روڈ پر اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کے کھمبوں کی تنصیب کے لیے 56 کروڑ روپے، 9 انڈر پاسز کی تعمیر کے لیے 93 کروڑ روپے، اضاخیل کے قریب مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے 92 کروڑ روپے اور پشاور میں 34 پارکس کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح 35 سڑکوں کی تعمیر کے لیے 19 ارب 90 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
مزید برآں پیرز کوڑی فلائی اوور سے خیبر روڈ اور جمرود روڈ تک بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے کے منصوبے پر 5 ارب 24 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جس میں نئے ٹرانسفارمرز کی تنصیب بھی شامل ہے۔ یونیورسٹی روڈ کے رامداس لاہوری علاقے میں انڈر پاسز کی تعمیر اور حیات آباد سے خیبر روڈ تک لنک روڈ کے لیے 3 ارب روپے کا منصوبہ بھی منظور کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف ڈبلیو او اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی مشترکہ کوششیں رنگ لے آئیں، پارہ چنار ایئرپورٹ دوبارہ فعال
ذرائع کے مطابق حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ان منصوبوں پر 30 جون سے قبل کام کا آغاز یقینی بنایا جائے، جبکہ کابینہ اجلاس میں ان منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کی جا چکی ہے۔
دیگر منصوبوں میں ناصر باغ سے بائی پاس تک سڑک کی تعمیر کے لیے 9 ارب روپے، تھیم پارک کے قیام کے لیے 2 ارب روپے اور چار جنازہ گاڑیوں کی خریداری کے لیے 17 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پشاور میں فروٹ و سبزی منڈی اور چار مذبحہ خانوں کے قیام کے منصوبے بھی شامل ہیں، جبکہ بڈھنی نالہ کی تعمیر کے لیے 5 ارب 52 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف پشاور کے شہری ڈھانچے میں بہتری آئے گی بلکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی، ماحولیاتی بہتری اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔





