اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق شرح سود کو 10.5 فیصد سے بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان کی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات پالیسی فیصلوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق شرح سود میں اضافے کا براہ راست اثر مہنگائی پر پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کرتا ہے، جس سے عوامی سطح پر مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ فیصلہ ملکی معاشی استحکام اور افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔





