محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید گرمی کی نئی لہر کے حوالے سے تازہ الرٹ جاری کر دیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ رواں سال مئی اور جون کے مہینوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
الرٹ کے مطابق جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور بلوچستان کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جہاں شدید گرمی کی لہر انسانی صحت اور روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بعض مقامات پر درجہ حرارت 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ سکتا ہے، جبکہ موجودہ دنوں میں بھی ملک کے مختلف حصوں میں پارہ معمول سے 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ جنوبی علاقوں میں 29 اپریل سے 3 مئی تک شدید گرمی کی لہر کا خاص امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کے زیر اثر درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے اور ان علاقوں میں 29 اپریل سے 5 مئی کے دوران پارہ معمول سے 2 سے 4 ڈگری کم رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ملک کے بڑے شہروں میں گرمی کی شدت برقرار ہے، لاہور میں درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے جبکہ کراچی میں درجہ حرارت 38 ڈگری ہونے کے باوجود ہوا میں نمی کی زیادتی کے باعث تپش 44 ڈگری سینٹی گریڈ جیسی محسوس کی جا رہی ہے۔
ماہرینِ صحت نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں تاکہ لو لگنے کے خطرات سے بچا جا سکے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور خواتین کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے ڈائریکٹر جنرل عمر جاوید نے تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو سروسز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
کسانوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ شدید موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فصلوں کی آبیاری اور دیکھ بھال کا مناسب بندوبست کریں۔





