ماہرینِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ موٹاپا 13 اقسام کے کینسر سے جڑا ہوا ہے اور اگر کسی شخص کا وزن بعد میں کم بھی ہو جائے تب بھی وہ خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوتا۔
انگلستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک طویل تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کینسر کے علاج کا آغاز کرنے والے آدھے سے زائد مریضوں کی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر موٹاپا موجود رہا ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینسر میں موٹاپے کا کردار پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے، جبکہ ماضی میں اسے تقریباً 40 فیصد کیسز کا سبب سمجھا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق صرف علاج کے آغاز پر مریض کا وزن یا بی ایم آئی چیک کرنا کافی نہیں، کیونکہ اس سے مریض کی پوری زندگی میں موٹاپے کی تاریخ کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، جس کے باعث بقا کے امکانات کا تخمینہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کی ڈاکٹر ہیلن کروکر نے کہا کہ یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مریضوں کی موجودہ صحت کے ساتھ ساتھ ان کی ماضی کی جسمانی حالت، خصوصاً موٹاپے کی تاریخ کو بھی طبی فیصلوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ موٹاپے اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق پہلے سے ثابت ہے، تاہم اس کے علاج کے نتائج پر اثرات کو اب مزید واضح کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موٹاپے کی وبا پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ سامنے آگئی
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط تجزیے میں جب مریضوں کی ماضی کی صحت کو شامل کیا گیا تو 13 اقسام کے کینسر میں 50 فیصد سے زائد مریض موٹاپے کا شکار رہے، جبکہ اگر صرف ایک وقت کے بی ایم آئی پر انحصار کیا جائے تو یہ شرح صرف 25 فیصد ظاہر ہوتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کی قیادت کرنے والے پروفیسر سائمن لارڈ کے مطابق ماضی میں موٹاپا یا زیادہ وزن کینسر کے علاج کی کامیابی پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے مریض کی مکمل طبی تاریخ کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔
ماہرین نے اس تحقیق کو کینسر کے علاج اور تشخیص کے طریقہ کار میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مستقبل میں بہتر اور مؤثر علاج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔





