ون کانسٹیٹوشن ایونیو میں قوانین کی خلاف ورزی، طلال چوہدری کا بڑا انکشاف

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے متعدد قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ تین بڑی کمپنیوں نے ون کانسٹیٹوشن ایونیو کی جگہ کو ہوٹل بنانے کے مقصد کے لیے لیز پر حاصل کیا تھا، جس کے لیے ریڈ زون میں تقریباً 70 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ کے حساب سے لیز دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس پلاٹ کی بنیاد پر بینک آف پنجاب سے قرض حاصل کیا گیا، تاہم اقساط کی ادائیگی نہ ہونے پر متعلقہ گروپ ڈیفالٹ کر گیا۔ ان کے مطابق ڈیفالٹ کے بعد بی این پی گروپ کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے طلب بھی کیا۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ کمپنی کی جانب سے اپارٹمنٹس کی تشہیر کی گئی، حالانکہ عدالت کی جانب سے اس مقام پر اپارٹمنٹس بنانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر اعظم نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر اعلی سطح کمیٹی تشکیل دے دی

انہوں نے بتایا کہ 2016 میں لیز معاہدہ منسوخ کر کے سی ڈی اے نے ون کانسٹیٹوشن ایونیو کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تجاوزات کے خلاف بلا تفریق کارروائی کر رہی ہے اور اب ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں ریاست اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہی، تاہم اب امیر اور غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جائے گا اور قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔

Scroll to Top