امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس صرف کھوکھلے نعروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور عوام صحت، تعلیم اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
دیر بالا میں “بدل دو نظام” کے عنوان سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے آؤٹ سورس کرنا حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 79 برسوں سے عوام کو نعروں اور جھنڈوں کے ذریعے دھوکا دیا جا رہا ہے جبکہ بیوروکریسی آج بھی غلامانہ سوچ کے تحت عوام کو اپنا محکوم سمجھتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے عدالتی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے گلا سڑا نظام قرار دیا اور کہا کہ ملک میں غریب کے لیے انصاف کا حصول ایک خواب بن چکا ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے، صرف چار سال میں ملکی قرضہ 55 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ حکمران روزانہ اربوں روپے کے مزید قرضے لے رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت فوری طور پر 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے اور کہا کہ موٹر سائیکل سوار محنت کش بھاری ٹیکس ادا کر کے آئی پی پیز مافیا کو فائدہ پہنچا رہے ہیں، جبکہ بڑے جاگیردار ٹیکس سے مستثنیٰ ہو کر ایک دوسرے کو تحفظ دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اراکین پارلیمنٹ تذبذب کا شکار، قیادت اور محمود خان اچکزئی کے خلاف شکایات کے انبار
انہوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری دراصل حکمرانوں کی ناکامی کا اعتراف ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ اقتدار میں آ کر امیر و غریب کے لیے الگ تعلیمی نظام ختم کیا جائے گا اور خواتین کو وراثت کے حقوق دلائے جائیں گے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں 50 لاکھ ممبرز اور 50 ہزار عوامی کمیٹیاں قائم کر کے موجودہ نظام کو بدلنے کے لیے جدوجہد کرے گی۔





