گڈ گورننس صرف نعرہ بن کر رہ گئی، خیبرپختونخوا کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں: حافظ نعیم الرحمن

امیر حافظ نعیم الرحمن نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی گڈ گورننس محض دعوؤں تک محدود ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی جماعت کے 14 سالہ اقتدار کے باوجود صوبے کے عوام آج بھی صحت، تعلیم اور بنیادی حقوق جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔

دیر بالا کے اسٹیڈیم میں “بدل دو نظام” کے عنوان سے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کی بہتری کے بجائے انہیں آؤٹ سورس کرنا حکومتی ناکامی کی واضح علامت ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چند برسوں میں ملکی قرضوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور عوام کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق مہنگائی سے متاثرہ عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر بھاری قرضے لیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام کو نعروں کے ذریعے گمراہ کیا جاتا رہا ہے جبکہ بیوروکریسی اب بھی فرسودہ نظام کے تحت کام کر رہی ہے، جس کے باعث عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت کم کر کے 250 روپے فی لیٹر کی جائے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس نظام کا بوجھ زیادہ تر عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ بااثر طبقات کو رعایتیں حاصل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کیا چودھری پرویز الٰہی پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں؟ وضاحتی بیان سامنے آ گیا

انہوں نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتوں کو ایک ہی طرز حکمرانی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ دراصل پالیسی ناکامی کا اعتراف ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر یکساں تعلیمی نظام نافذ کرے گی اور خواتین کو وراثت میں ان کے حقوق دلائے گی۔

انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینے کی دعوت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک بھر میں بڑی تعداد میں ممبرز اور عوامی کمیٹیاں قائم کر کے موجودہ نظام کو تبدیل کیا جائے گا۔

Scroll to Top