خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں سے متعلق منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے پیش کیے گئے نکات کے حوالے سے ایک رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں نقل مکانی اور بے دخلی کسی نسلی بنیاد پر نہیں ہوئی بلکہ اس کی بنیادی وجوہات دہشتگردی، شدت پسند عناصر کی موجودگی اور ان کے خلاف کیے گئے سیکیورٹی آپریشنز تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کیے جانے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا مقصد دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کرنا تھا، جو بعض اوقات عام آبادی میں بھی چھپے ہوتے ہیں۔ ان کارروائیوں میں شہری نقصان کم سے کم رکھنے کی کوشش کی گئی۔
مزید کہا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کو دوبارہ اپنے علاقوں میں آباد کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق قدرتی وسائل سے متعلق پالیسیاں آئینی اور انتظامی ڈھانچے کے تحت بنائی جاتی ہیں اور انہیں نسلی بنیادوں پر پیش کرنا غلط فہمیوں اور تقسیم کو جنم دے سکتا ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے دوران پاکستان نے خود بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا، اور یہ صورتحال اندرونی شدت پسندی اور دہشتگرد نیٹ ورکس سے جڑی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی جرگوں اور عمائدین نے بھی متعدد مواقع پر شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ ریاستی اداروں میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے اور فیصلے آئینی و ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کا اعلان
مزید کہا گیا ہے کہ بعض تنظیموں یا سرگرمیوں پر پابندیاں سیکیورٹی اور ریاستی مفاد کی بنیاد پر لگائی جاتی ہیں، اور ایسی کارروائیاں ملک کے دیگر حصوں میں بھی کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض اوقات یکطرفہ یا جذباتی بیانیہ سامنے آتا ہے، جس سے مکمل حقیقت واضح نہیں رہتی۔
مزید کہا گیا ہے کہ امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ شدت پسندی کو مسترد کیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور آئینی راستوں کو اختیار کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق طویل المدتی استحکام کے لیے بہتر حکمرانی، ترقی، سیاسی شمولیت، تعلیم اور مؤثر سیکیورٹی نظام ناگزیر ہیں۔





