وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے آبائی ضلع خیبر میں سرکاری سکول کی ابتر صورتحال سامنے آگئی ہے، جہاں طلبہ کھلے آسمان تلے مٹی پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق علاقے کے سرکاری سکول میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ نہ تو طلبہ کے لیے مناسب عمارت موجود ہے اور نہ ہی بیٹھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بچے کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
طلبہ نے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے سکول کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ ایک طالب علم نے کہا کہ ہم زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں، یہاں مٹی ہے، ہماری وزیراعلیٰ سے درخواست ہے کہ ہمارے لیے سکول کی بلڈنگ تعمیر کی جائے۔
ایک اور طالب علم نے بتایا کہ ہمارے پاس نہ بیٹھنے کی جگہ ہے، نہ کتابیں اور نہ ہی بیگز موجود ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ نہ صرف سکول کی عمارت فراہم کی جائے بلکہ بنیادی تعلیمی سامان اور کتابیں بھی دی جائیں تاکہ وہ بہتر انداز میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
طلبہ کی یہ فریاد علاقے میں تعلیمی سہولیات کی کمی اور نظام تعلیم پر سوالات اٹھا رہی ہے، جبکہ شہریوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔





