مولاناشیخ ادریس کی شہادت کے خلاف خیبرپختونخوا میں احتجاجی مظاہرے

 جمعیت علمائے اسلام (جے یوآئی ف) کی جانب سے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کے خلاف آج 6 مئی کواحتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

خیبرپختونخوا کےدارلحکومت پشار سمیت ضلع بونیر ،مہمند ،شانگلہ ،کوہاٹ ،شمالی وزیرستان،مردان،ٹانک ،صوابی ،لوئر دیر،کرک ،لکی مروت ،چارسدہ ،ڈیرہ اسماعیل خان ،خیبرمیں جے یو آئی کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور مقتول کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے شدید نعرے بازی کی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

احتجاجی شرکاء کا کہنا تھا کہ صوبے میں بدامنی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ تیرہ سال سے برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف امن کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو اسے فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے سوال اٹھایا کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ میں کیوں ناکام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کب تک اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے، اگر حکومت سیکورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو اس کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ علماء ریاست کے خیر خواہ ہیں لیکن انہیں مسلسل نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک امر ہے۔

واضح رہے کہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو گزشتہ روز چارسدہ میں نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں جا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور گھات لگا کر بیٹھے تھے، اس حملے میں مولانا ادریس کے ساتھ موجود دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

واقعے کے فوری بعد گزشتہ روز بھی چارسدہ اور نوشہرہ سمیت مختلف علاقوں میں شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر شدت پسند تنظیم داعش سے منسوب ایک تحریری بیان سامنے آیا ہے جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہےتاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

Scroll to Top