مولاناشیخ ادریس کیس میں اہم پیش رفت، ایک مبینہ دہشت گرد کی شناخت کر لی گئی

کامران علی شاہ

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے جہاں پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیموں نے ایک مبینہ دہشت گرد کی شناخت کر لی ہے۔

پشاور اور چارسدہ کی پولیس سمیت سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیمیں شہید شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کی تفتیش میں مصروف ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے پوری سرکاری مشنری کو متحرک کر دیا گیا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق جائے وقوعہ اور اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل شدہ تصاویر کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں ایک اہم ملزم کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے جس کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کی خصوصی ٹیمیں اس ہائی پروفائل کیس میں دیگر اضلاع کی پولیس سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کی مدد لی جا رہی ہے۔ تفتیشی ٹیم نے اب تک مولانا محمد ادریس کے ڈرائیور کا ابتدائی بیان قلم بند کر لیا ہے جس سے حملے کی کڑیوں کو جوڑنے میں مدد مل رہی ہے۔

سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ کے قریب نصب موبائل ٹاورز کا ڈیٹا (جیو فینسنگ) بھی چیک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ریجن کے پرانے ہائی پروفائل کیسز میں ملوث ملزمان کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔

پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شناخت شدہ دہشت گرد کی پروفائل اور ریکارڈ پر کام جاری ہے۔ گزشتہ رات ایک اہم مقام پر خصوصی ٹیم نے چھاپہ بھی مارا تاہم ٹارگٹ ٹیم کے پہنچنے سے تھوڑی دیر قبل ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ پولیس حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

Scroll to Top