امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری 67 روزہ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کی رپورٹس پر سرد مہری کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبرو مذاکرات یا دستخطی تقریب کے بارے میں سوچنا فی الحال قبل از وقت ہے۔
نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ دونوں ممالک کسی حتمی فریم ورک کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد میں مذاکرات کے نئے دور کے لیے تیاریاں شروع کر دی جائیں تو صدر کا کہنا تھا کہ ابھی اس کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مرحلہ ابھی کافی دور ہے۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میںکہا تھاکہ اگر ایران ان تمام شرائط کو تسلیم کر لیتا ہے جن پر اتفاق ہوا ہے، تو امریکہ اپنی فوجی کارروائی ایپک فیوری ختم کر دے گا اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور ایران کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے سخت وارننگ بھی دی کہ اگر ایران نے ان شرائط کی پاسداری نہ کی تو بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا جس کی شدت اور تباہی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ماضی میں پاکستانی دفاعی سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کا اعتراف کیا تھا اور معاہدے پر دستخط کے لیے اسلام آباد جانے کی آمادگی ظاہر کی تھی۔





