شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کے حوالے سے انتہائی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق انہیں شہادت سے قبل افغان خوارج کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو رہے تھے۔
ان پیغامات میں مولانا ادریس کو ان کے سیاسی نظریات اور ریاستِ پاکستان کے جمہوری نظام کی حمایت کرنے پر شدید نشانہ بنایا گیا تھا۔
موصولہ پیغامات کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان خوارج نے مولانا شیخ محمد ادریس کے علمی موقف کو چیلنج کرتے ہوئے جمہوری نظام کو “کفر اور شرک” قرار دیا تھا۔
پیغامات میں تند و تیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ “جمہوریت پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہے، آپ کس بنیاد پر اس نظام کی ترغیب دے رہے ہیں؟” ان پیغامات میں مولانا کو ماضی کے بعض علماء کا حوالہ دے کر متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنے بیانات پر توبہ کریں اور ریاست کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔
انکشاف ہوا ہے کہ افغان خوارج کے آفیشل چینل نے شہید مولانا ادریس کے خلاف باقاعدہ ایک منظم مہم چلائی تھی اور یہ مہم ان کی شہادت تک مسلسل جاری رہی۔ اس مہم کے ذریعے نہ صرف ان کے نظریات کو نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں عوامی سطح پر بھی ہدف بنانے کی کوشش کی گئی۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان خوارج کی جانب سے موصول ہونے والے یہ پیغامات اور آفیشل چینلز کا پروپیگنڈا اس سازش کا حصہ تھے جس کا مقصد ریاست کے حامی جید علماء کرام کو خوفزدہ کرنا اور انہیں راستے سے ہٹانا تھا۔





