برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں حکمران لیبر پارٹی کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں اسے 1300 سے زائد نشستوں پر شکست ہوئی جبکہ ویلز میں بھی تاریخی ناکامی رپورٹ کی گئی ہے۔
انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق دائیں بازو کی جماعت ریفارم یوکے نے غیر متوقع کارکردگی دکھاتے ہوئے روایتی بڑی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سب سے بڑی مقامی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کی 5 ہزار سے زائد بلدیاتی نشستوں میں سے تقریباً ساڑھے 4 ہزار کے نتائج کے مطابق ریفارم یوکے 1400 سے زائد نشستوں کے ساتھ سرفہرست رہی، جبکہ لیبر پارٹی 927 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق انگلینڈ میں ریفارم یوکے نے نمایاں برتری حاصل کرتے ہوئے لیبر کے کئی مضبوط سیاسی گڑھ بھی چھین لیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہارٹلی پول میں ریفارم یوکے نے تمام 12 نشستیں حاصل کیں، ہالٹن میں 15 نشستیں اپنے نام کیں، جبکہ ویگن میں لیبر کو 20 نشستوں کا نقصان ہوا اور ریفارم یوکے نے 23 نشستیں جیت لیں۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ میں ملازمت کے شاندار مواقع، اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ
انتخابات کے دوران کنزرویٹو پارٹی کے ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ریفارم یوکے کی طرف منتقل ہوئی، جس سے سیاسی منظرنامہ مزید تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
ادھر لیبر پارٹی کی شکست کے بعد وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور ان کے استعفے کے مطالبات بھی زور پکڑ گئے ہیں۔
تاہم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے فیصلے سے ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں کرنا چاہتے۔





