ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے روزانہ 8 ہزار 500 قدم چلنا کافی ہے۔ یہ تعداد عام طور پر بتائے جانے والے 10 ہزار قدموں کے ہدف سے کہیں کم ہے، جو وزن گھٹانے والوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
یورپین کانگریس آن اوبیسٹی میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جو افراد ہفتے میں مجموعی طور پر تقریباً 59 ہزار 500 قدم چلنے کی عادت بناتے ہیں، وہ اپنا وزن برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سادہ سی تبدیلی موٹاپے کے خلاف جنگ میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف موڈینا کے پروفیسر مروان الغوش کے مطابق موٹاپے کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روکنا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً 80 فیصد افراد تین سے پانچ سال کے عرصے میں اپنا کم کیا ہوا وزن دوبارہ بڑھا لیتے ہیں۔
انٹرنیشنل جرنل آف انوائرنمنٹل ریسرچ اینڈ پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران 3 ہزار سے زائد مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن شرکاء نے اپنے یومیہ قدموں کی تعداد 8 ہزار 454 تک پہنچائی، انہوں نے طویل مدت تک خود کو فٹ رکھا۔
تحقیق میں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ وزن کم کرنے کے ابتدائی مرحلے میں صرف چلنا کافی نہیں بلکہ ڈائٹنگ یعنی کیلوریز کم کرنا زیادہ مؤثر رہتا ہے۔ تاہم ایک بار وزن کم ہو جائے تو اسے مستقل طور پر برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کی چہل قدمی ناگزیر ہے۔
پروفیسر مروان الغوش نے مشورہ دیا ہے کہ لوگوں کو روزانہ تقریباً 8 ہزار 500 قدم چلنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ یہ ایک کم خرچ اور آسان حکمت عملی ہے جو لوگوں کو دوبارہ موٹاپے کی طرف جانے سے بچا سکتی ہے۔





