ایران نے ایک بار پھر کسی بھی ممکنہ جارحیت کا سخت جواب دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ غلط حکمت عملی اور غلط فیصلوں کے نتائج بھی ہمیشہ غلط ہی نکلتے ہیں اور دنیا اب اس حقیقت کو بخوبی سمجھ چکی ہے۔
باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا اور اگر کسی نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے اور مخالفین کو ایسے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں ہوگا۔
ایرانی اسپیکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے اور ایران و امریکا کے درمیان تعلقات میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اس سے قبل ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں کے باعث امریکا سے بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سرکاری اخراجات پر کنٹرول جاری، کفایت شعاری مہم میں توسیع کا اعلان
عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو اپنا برا چاہنے والوں سے محتاط رہنا چاہیے جو امریکا کو پھر سے دلدل میں گھسیٹنا چاہتے ہیں
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جسے انہوں نے آبنائے ہرمز میں ”آزادی کا منصوبہ” قرار دیا تھا اور اسے ”ناکام منصوبہ ” کہا۔
دریں اثنا ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ائیرکرافٹ کیرِیئر کی آبنائے ہُرمُز کی طرف بڑھنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔
ایک بیان میں کمانڈر ان چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ ایران نے دشمن سے نمٹنے کے لیے کروز میزائل اور لڑاکا ڈرون تعینات کردیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ائیرکرافٹ کیریئر سمجھتا ہے کہ وہ خفیہ رہ سکنے والے ریڈار کی مدد سے آبنائے ہُرمُز تک پہنچ جائے گا لیکن انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ایران کا جواب “فائر” ہوگا۔





