برطانوی وزیراعظم پر دباؤ میں اضافہ، اہم وزراء نے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا

لندن : برطانیہ میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں وزیر داخلہ شبانہ محمود سمیت لیبر پارٹی کے متعدد اہم کابینہ اراکین نے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے یا واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق شبانہ محمود سمیت کم از کم تین کابینہ اراکین نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن پر نظرثانی کریں اور قیادت سے علیحدگی کے حوالے سے واضح لائحہ عمل پیش کریں۔ معروف برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق یہ دباؤ پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا حصہ ہے۔

شبانہ محمود، جو برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ ہیں اور لیبر پارٹی میں مضبوط سیاسی حیثیت رکھتی ہیں، ان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے قیادت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ادھر صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب پانچ پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹریز نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

استعفیٰ دینے والوں میں ہیلتھ سیکریٹری ویس اسٹریٹنگ کے معاون جو مورس اور انوائرمنٹ سیکریٹری کے پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹری ٹام رٹلینڈ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب ہوگا، باقر قالیباف کا واضح اعلان

ٹام رٹلینڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کو نہ صرف عہدہ چھوڑنے کا واضح ٹائم ٹیبل دینا چاہیے بلکہ پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب کا عمل بھی شروع کرنا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق اب تک لیبر پارٹی کے 70 سے زائد اراکین پارلیمنٹ بھی وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر چکے ہیں، جس سے پارٹی میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے مستعفی ہونے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اور ملک کو امید دلانے کی ضرورت ہے، جبکہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ انتخابات کے نتائج مشکل تھے جن کی وہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

Scroll to Top