سپر اسٹار سے وزیراعلیٰ تک، وجے تھلاپتی کے سیاسی سفر کی دلچسپ داستان

تمل ناڈو کی سیاست میں فلمی دنیا سے ابھرنے والے سپر اسٹار وجے تھلاپتی کا سفر ایک غیر معمولی اور حیران کن سیاسی داستان بن چکا ہے۔

مئی 2026 میں وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے والے وجے، جن کا اصل نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے، نے نہ صرف کئی دہائیوں سے قائم روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کیا بلکہ ایک مضبوط عوامی تحریک کے ذریعے اقتدار تک رسائی حاصل کی۔

فلمی شہرت کے باوجود ان کا سیاسی سفر انتہائی کٹھن تھا جہاں انہیں ابتدا میں ہی قانونی دباؤ، شدید سیاسی مخالفت، تنقید اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مخالفین کی جانب سے ان کی جماعت اور کارکنوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا لیکن وجے نے مسلسل عوامی خدمت کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

رپورٹس کے مطابق وجے نے اپنی سیاسی بنیاد 2009 میں ہی رکھ دی تھی جب انہوں نے اپنے فین کلبز کو فلاحی تنظیموں میں تبدیل کیا جنہوں نے خون کے عطیات، سیلاب متاثرین کی بحالی اور طلبہ کی مالی معاونت جیسے منصوبوں کے ذریعے عوام میں جڑیں مضبوط کیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مخالف جماعتوں نے ان کے کارکنوں کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں “انیل” یعنی گلہری کا نام دیا تو وجے نے اسی لقب کو اپنی سیاسی طاقت اور شناخت بنا لیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ تبدیلی محض شہرت سے نہیں بلکہ منظم جدوجہد سے آتی ہے جس کا پہلا بڑا ثبوت 2021 کے بلدیاتی انتخابات میں سامنے آیا جہاں ان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 169 میں سے 115 نشستیں جیت کر سیاسی حلقوں کو ششدر کر دیا۔

سال 2024 میں اپنی جماعت “تاملگا ویٹری کزگم” کے باقاعدہ قیام کے بعد وجے نے پارٹی کی تنظیم سازی پر خصوصی توجہ دی اور دو برسوں کے اندر اسی فین فالوونگ کو ایک مضبوط ووٹ بینک میں تبدیل کر دیا جسے کبھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

پارٹی رہنماؤں کے انتخاب کے لیے کڑے انٹرویوز اور نوجوان قیادت کی تیاری کے لیے اپنائی گئی منظم حکمتِ عملی رنگ لائی اور بالآخر عوامی حمایت و فلاحی سیاست کے بل بوتے پر وجے تھلاپتی تمل ناڈو کی وزارتِ اعلیٰ حاصل کر کے فلمی دنیا سے نکل کر عملی سیاست میں نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

Scroll to Top